ماسکو ،20؍دسمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)روسی صدر ولادی میر پوتن نے گذشتہ روز ترکی میں متعین اپنے سفیر کے قتل کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے شام میں دیر پا قیام امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ انقرہ میں روسی سفیر کے قتل کے بعد سرکاری ٹی پر نشر ایک بیان میں صدر پوتن نے کہا کہ ہمارے سفیر کا قتل ترکی اور روس کے مشترکہ دشمن کی سازش ہے اور اس سازش کا ایک مقصد ترکی اور روس کے درمیان تعلقات کو خراب کرنا ہے۔ اس سازش کے نتیجے میں ترکی اور ایران کی مدد سے شام کے مسئلے کے حل کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔صدر ولادی میر پوتن نے انقرہ میں اپنے سفیر کی ہلاکت کی خبر کیبعد ماسکو میں ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں دنیا بھر میں قائم روسی سفارت خانوں کی سیکیورٹی بڑھانے کی ہدایت کے ساتھ ساتھ ترکی میں سفیر کے قتل کی فوری تحقیقات کا بھی حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جاننا چاہتے کہ ترکی میں ہمارے سفیر کے قتل میں کون کون ملوث ہے۔وزیرخارجہ، فیڈریسن انویسٹی گیشن پولیس کے چیئرمین اور ڈائریکٹر انٹیلی جنس برائے خارجہ امور سیرگی نارچکن کے ہمراہ اجلاس کے دوران بات کرتیہوئے صدر پوتن نے کہا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انقرہ میں ہمارے سفیر کا قتل ایک بزدلانہ اور اشتعال انگیز کارروائی ہے۔ اس کا مقصد ترکی اور روس کے دمیان تعلقات کو بگاڑنا اور شام میں دیر پا امن کی مساعی کو تباہ کرنا ہے۔روسی سفیر حملے کے بعد زمین پر پڑے ہیں جبکہ حملہ آور کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سفیر کے قتل سے روس اور ترکی تعلقات متاثر ہوں گے اور نہ ہی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ متاثر ہوگی۔خیال رہے کہ انقرہ میں متعین روسی سفیر کو گذشتہ روز نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔ سفیر پر قاتلانہ حملہ انقرہ میں ایک نمائش میں شرکت کے دوران کیا گیا۔ واقعے کے بعد صدر ولادی میر پوتن اور ان کے ترک ہم منصب طیب ایردوآن کے درمیان ٹیلیفون پر بات چیت بھی ہوئی ہے۔ ترک صدر نے سفیر کے قتل کی جامع تحقیقات کرانے کا بھی اعلان کیا ہے۔